فیض احمد فیض اپنے عہد کے عظیم شاعر   


کالم نگار:

محمد شہزاد بھٹی  shehzadbhatti323@gmail.com









آج ہم تذکرہ کریں گے ایک ایسے شاعر کا جنہیں غالب اور اقبال کے بعد اتنی زیادہ شہرت حاصل ہوئی کہ اردو کے کسی دوسرے شاعر کو شاید ہی اتنی شہرت نصیب ہوئی ہو۔ وہ ہیں فیض جنہیں بیسویں صدی کے سب سے بڑے انقلابی شعراء میں شمار کیا جاتا ہے، وہ بلاشبہ اپنے عہد کے سب سے بڑے شاعر تھے۔ فیض احمد فیض جیسے شاعر اور عظیم انسان روز روز نہیں بلکہ کئی صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ وہ اپنی شاعری کے ذریعے محبت، انقلاب، اور انسانی حقوق کے پیغام کو عام کرنے میں کامیاب رہے۔ فیض احمد فیض 13 فروری 1911 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ظلم، نا انصافی اور جبر و استبداد کے خلاف اپنی شاعری کے ذریعے جدوجہد کی۔ ان کا کلام ایک منفرد امتزاج پیش کرتا ہے، جہاں محبت اور حسن کے نازک جذبات سماجی انصاف اور ظلم کے خلاف مزاحمت کے ساتھ یکجا نظر آتے ہیں۔ ان کی شاعری نہ صرف اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہے بلکہ مظلوموں کے حقوق کی آواز بھی ہے۔ فیض کی زندگی جدوجہد اور قربانیوں کی ایک داستان ہے، وہ ترقی پسند تحریک کے رہنما تھے، اور ان کی شاعری نے معاشرتی برائیوں، استحصال، اور آمریت کے خلاف لوگوں کو بیدار کیا۔ ان کا کلام جیسے "دستِ صبا", "زنداں نامہ" اور "نقشِ فریادی" ظلم کے خلاف جدوجہد اور امید کی شمع بنے۔ ان کی ’ہم دیکھیں گے‘ جیسی نظم آج بھی مظلوموں کے دلوں میں گھر کیے ہوئے ہے اور دنیا بھر میں آزادی اور انصاف کے لیے ہونے والے مظاہروں میں گونجتی ہے۔ فیض احمد فیض کی یہ نظم نہ صرف ان کی انقلابی سوچ کی عکاسی کرتی ہے بلکہ ان کے ناقابل شکست حوصلے کی علامت بھی ہے۔ فیض احمد فیض کو ان کی خدمات کے اعتراف میں کئی اعزازات ملے، جن میں 1962 کا ’لینن امن‘ انعام شامل ہے۔ ان کی شاعری کا دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا جو آج بھی دنیا بھر میں مقبول ہیں۔ فیض احمد فیض 20 نومبر 1984ء کو 73 برس کی عمر میں مداحوں سے بچھڑ گئے، فیض احمد فیض 20 نومبر 1984ء کو وفات پا گئے اور لاہور میں گلبرگ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ ان کی شاعری آج بھی ہمیں ظلم کے خلاف کھڑے ہونے اور ایک بہتر مستقبل کا خواب دیکھنے کی اُمید دیتی ہے، فیض احمد فیض کا کلام ان کے مداحوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا اور ان کا فلسفہ محبت اور انقلاب کا پیغام دیتا رہے گا۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ فیض احمد فیض کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین

آج ہی نوٹس لیجئے

 *آج ہی نوٹس لیجئے*

______

✍️ *نذر حافی*

_________



یہ آپ کے اپنے ہم وطن اور بہن بھائی ہیں۔ یہ مجرم نہیں بلکہ مسافر ہیں۔

یہ اکیسویں صدی کے پاکستان میں آپ سے رحم کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ ملک کے اندر کی صورتحال جہاں اپنی جگہ ابتر ہے وہیں پاکستانی بارڈرز پر عوام کو جانوروں کی طرح ذلت کا سامنا کرنا پڑ ہے۔ 

آپ جو بھی ہیں، لکھاری، سیاستدان، حکومتی ملازم، عالم دین۔۔۔ آپ جو بھی ہیں ان مظلوموں کی بات تو سنیں۔۔۔

تفتان بارڈر پر عوام ساتھ پیش آنے والے سرکاری اہلکاروں کا رویہ کچھ ایسا ہے کہ لگتا ہے انسانیت دفن ہو چکی ہے ۔ بارڈر پر عوامی شکایات کے اندراج اور فیڈ بیک کا کوئی نظام نہیں۔لوگوں کے ساتھ سرکاری کارندے کیسے پیش آ رہے ہیں، اس کی مانیٹرنگ نہیں ہو رہی۔ عوام کو وہاں کیا کیا مشکلات ہیں، انہیں جاننے، سمجھنے اور حل کرنے کا کوئی بندوبست نہیں۔

سرکار اور حکومت کی بات چھوڑیں بطور انسان تو ہمیں ایک دوسرے پر رحم کرنا چاہیے۔

 

ہماری انسان ہونے کے ناتے حکام بالا سے درخواست ہے کہ اگر پاکستان کے لاکھوں پروفیشنلز نیز ہزاروں مودّب و با اخلاق اہلکاروں میں سے صرف چند مہربان، انسانیت دوست، اور فرض شناس افیسرز کو تفتان بارڈر پر تعینات کر دیا جائے تو اس سے سالانہ ہزاروں انسان آپ کیلئے دعا کریں گے اور پاکستان کی کارکردگی، گڈ گورننس اور بیٹر منٹ میں اضافہ ہو گا۔ یقین جانئے آپ کا بظاہر یہ چھوٹا سا قدم، عوام اور تاریخ پاکستان کے اعتبار سے ایک بہت بڑا کارنامہ ہو گا۔۔۔


کاش ہمارے حکمران ذخیرہ اندوزی اور مہنگائی پر ہی کچھ قابو پاکر دکھائیں، سڑکوں اور گلیوں میں راہ چلتے ہوئے اسلحے کے زور پر وارداتیں اور ڈکیتیاں، ملاوٹ اور مہنگی ادویات ۔۔۔کچھ اسی درد کا ہی درمان ہو جائے۔

*اگر کچے کےڈاکو حکومت کی پہنچ سے دور ہیں تو تفتان کے صوفی صاحب تو ہماری سرکار کے اپنے اہلکار ہیں۔*

 ان کے بارے میں ہی عوامی شکایات کے باعث از خود نوٹس لیا جانا چاہیے۔


ہم سے زیادہ ہمارے سیکورٹی ادارے اس وقت تفتان کی تازہ صورتحال سے آگاہ ہیں۔ ہماری ان سے گزارش ہے کہ پہلی فرصت میں تفتان بارڈر پر عوام کی بے عزّتی اور سرکاری کارندوں کی رشوت خوری کی عوامی شکایات کے ازالے کا بندوبستی کریں، مانیٹرنگ کریں اور فوری نوٹس لیں۔تفتان روٹ پر کئی سالوں سے عوامی مشکلات اور شکایات اربابِ اقتدار کی توجہ کی طالب ہیں۔ ۔۔

*آج کی تازہ اطلاعات کے مطابق تفتان باڈر کی صورت حال واقعاً بہت خراب ہے۔*

👇❗

1۔ ناقص صورتحال مثلاً گندگی سے بھرے ہوئے واشرومز، وضوخانہ بھی خراب و بدبودار۔۔۔۔

رات کو اندر شدید گرمی ہوتی ہے جس کے باعث لوگوں کو باہر فرش پر سونا پڑتا ہے۔

کھانا مہنگا اور باسی قسم کا ہوتا ہے۔۔۔۔

سامان کی حفاظت بھی دشوار۔۔۔۔

کانوائے کی بسیں بھی کھٹارا قسم کی۔۔۔۔۔


2۔ اس ماحول میں کتنے دن رہنا ہے، یہ بھی نامعلوم۔۔۔۔۔

آج 14 جون کو صبح کانوائی جانا تھی مگر کبھی کہتے ہیں کہ کینسل ہوگئی ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ تین بجے۔۔۔۔

ہماری اپنے ملکی اداروں سے گزارش ہے کہ یہ لوگ آپ کی دھرتی ماں کی اولاد اور قومی طور پر آپ کے اپنے بہن بھائی ہیں۔ ان پر رحم کریں۔۔۔ رحم کریں۔

 *وحشیانہ سلوک صرف کچے کے ڈاکو نہیں کرتے*

✍️۔۔۔۔۔۔۔۔

فیڈ بیک

nazarhaffi@gmail.com

سکھر(نمائندہ پاکستان آن لائن نیوز ایچ ڈی سیدضیاءالرحمٰن) سکھر اسمال ٹریڈرز کے صدر حاجی محمد جاوید میمن نے کہا ہے کہ چھوٹے تاجر ملکی معیشت کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، تاجروں کے مسائل حل کیے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں،ٹیکسز کی بھر مار، حکومتی اور محکمہ ایف بی آر کی پالیسیوں کی وجہ سے صنعت و تجارت کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے، حکومت ملک میں معاشی استحکام کیلئے آئندہ پیش کردہ بجٹ میں تاجروں کی تجاویز کو مد نظر رکھ کر مرتب کریں، بجلی، گیس کی قیمتوں میں کمی، ناجائز ٹیکسز کے خاتمے سمیت چھوٹے تاجروں کی فلاح و بہبود کیلئے ایسی پالیسیاں مرتب کی جائیں جس سے صنعت و تجارت کاروبار کو فروغ دیکر ملک کو ترقی اور خوشحالی کی جانب گامزن کیا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انجمن تاجران غریب آباد کی جانب سے سکھر اسمال ٹریڈرز کے نومنتخب عہدیداران کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انجمن تاجران غریب آباد کی جانب سے حاجی محمد جاوید میمن کو مسلسل چوتھی مرتبہ سکھر اسمال ٹریڈرز کا صدر، حاجی غلام شبیر بھٹوکو سرپرست اعلیٰ، محمد عامر فاروقی کو جنرل سیکریٹری، حاجی عبدالستار راجپوت کو سینئر نائب صدر، محمد منیر میمن کو نائب صدر،محبوب صدیقی کو ایڈیشنل جنرل سیکریٹری، اعظم خان کو جوائنٹ سیکریٹری،ڈاکٹر سعید اعوان کو پریس سیکریٹری،شاہد مگسی کو آفس سیکریٹری منتخب ہونے پر پھولوں کے ہار پہنا کر مبارکباد دی اور سندھ کا روایتی تحفہ اجرکیں، پیش کیں، تقریب میں انجمن تاجران غریب آباد کے محمد منیر بھٹی، سرفرازصدیقی، ندیم بھٹی، وزیر خان، خدادا و دیگر نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حاجی محمد جاوید میمن کا مزید کہنا تھا کہ سکھر اسمال ٹریڈرز شہر کے تاجروں کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے، جس میں شہر بھر کی تجارتی تنظیمات شامل ہیں، ہمارا ماضی حال سب کے سامنے ہے ہم نے ہمیشہ تاجروں کے مسائل کے حل کیلئے مثالی جدوجہد کی ہیں انشاءاللہ آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ چھوٹے تاجروں کیلئے اپنی خدمات انجام دیتے رہینگے، ان کا کہنا تھا کہ تاجر برادری اپنی صفوں میں اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھیں تاکہ مشترکہ جدوجہد کے ذریعے ان کے مسائل بہتر انداز سے حل کرائے جاسکیں، قبل ازیں غریب آباد پہنچنے پر حاجی محمد جاوید میمن و دیگر رہنماﺅں کا والہانہ پرتپاک استقبال کیا گیا، جگہ جگہ پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے تاجر اتحاد زندہ باد کے نعرے بھی لگائے۔ 



 سکھر ( پاکستان آن لائن نیوز ایچ ڈی سیدضیاءالرحمٰن )چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ( بی آئی ایس پی ) محترمہ روبینہ خالد سکھر اور خیرپور کے دورے پہنچیں۔ انہوں نے سکھر میں واقع بی آئی ایس پی بچل شاہ کیمپ سائٹ کا دورہ کیا۔ انہوں نے کیمپ سائٹ پر موجود خواتین سے ملاقات کی اور ان کے مسائل سنے۔ مستحق خواتین کے مسائل کو فوری طور پر حل کرنے کیلئے متعلقہ افسران کو احکامات جاری کئے۔ چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ( بی آئی ایس پی ) محترمہ روبینہ خالد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پورے پاکستان میں 95 لاکھ سے زاہد ہمارے بینیفیشری ہیں، ہم نے کیمپ سائیٹ کا اس دفعہ فیصلہ اس لئے کیا ہے کہ کیوں کہ ہمیں بہت سی شکایتیں موصول ہوئی تھیں کہ قسط میں سے کٹوتی کی جا رہی ہے۔ دکاندار اپنی من مانی کر رہے ہیں اور کٹوتی کر رہے تھے ، ہم نے اس لیے کیمپ سائیٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں ہمارا عملہ بھی موجود ہوتا ہے، جو غیر قانونی کٹوتی روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ محترمہ روبینہ خالد نے مزید کہا کہ صاف اور شفاف ٹرانزیشن کو یقینی بنانے کیلئے کیمپ سائٹ کے بعد ہم انشاءاللہ بینک اکاوُنٹس کی طرف چلے جائیں۔اس کا مقصد ہے کہ لوگ ڈائریکٹ بینک جائیں پیسے وہاں سے لیں، یہ جو بیچ میں ریٹیلرز اور ایجنٹس ہیں ان کا کردار ختم ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا جو اسکور 32 ہے پی ایم ٹی ہے، اگر وہ اس سے نکل جاتے ہیں تو وہ ہمارے بینیفیشری میں نہیں ہونگے۔ہم اس کے علاوہ یہ بھی کوشش کر رہے ہیں کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ایک شعبہ وسیلہ روزگار ہم وہ بھی شروع کرنے جا رہے ہیں تاکہ ہم لوگوں کو اچھی زندگی گزارنے کے لیے کوئی روزگار یا کوئی ٹریننگ دے سکیں۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اگلی قسط بینکوں کے ذریعے کریں۔اس سلسلے میں مختلف بینکوں کو بھی شامل کر رہے ہیں تاکہ ایک بینک نہ ہو زیادہ بینک ہوں لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ، بینکوں کے درمیان مقابلہ بھی بڑھے گا اس سے وہ اچھی سروس فراہم کریں گے۔ ہم چاہ رہے تھے کہ کٹوتی کی شکایت کو ہم خود مانیٹر کر سکیں اور انشاءاللہ ہم بینکنگ ماڈل کی طرف جا رہے ہیں تاکہ پیسے ڈائریکٹ ان کے اکاوُنٹس میں آئیں۔



سکھر( نمائندہ پاکستان آن لائن نیوز سیدنصیر حسین زیدی) بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور اوور بلنگ سیپکو انتظامیہ کی زیادتیوں کے خلاف پاکستان مرکزی مسلم لیگ سٹی سکھر کے صدر محمد شاھد ۔جنرل سیکریٹری محمد شکیل کی قیادت میں کارکنان نے سکھر پریس کلب کے باھر احتجاج کرتے ہوۓ بتایا کے نیو پنڈ و دیگر علاقوں میں دن میں 14 گھنٹے بجلی بند رہتی ہے اور بل 25000 سے 30000 ہزار سے زیادہ آتا ہے جبکہ یونٹ 30 سے 40 یونٹ استعمال ہوتے ہیں سیپکو ملازم بجلی چوری خود کراتے ہیں اور خمیازہ بجلی صارفین کو بھگتنا پڑتا ہے ہم سیپکو چیف و دیگر افسران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بجلی کے بل ادا کرنے والے صارفین کی شکایات کا ازالہ کرتے ہوۓ لوڈشیڈنگ کم کی جائے اوور بلنگ و ڈیڈکشن بلنگ ختم کرتے ہوۓ رلیف دیا جاۓ۔ 



بااثر بلڈر مافیا کی مبینہ زیادتیوں ے

 سکھر(نمائندہ پاکستان آن لان نیوز سیدضیاءالرحمٰن)

بااثر بلڈر مافیا کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف متاثرہ شخص کی بالا حکام سے نوٹس لیکر انصاف و تحفظ فراہمی کی اپیل ،




تفصیلات کے مطابق پلاٹوں پر غیر قانونی قبضے و تعمیرات مسمار کرنے سمیت پولیس کی جانب سے تحفظ کی عدم فراہمی کے خلاف سکھر کے علاقے کری کواٹر کے رہائشی ایڈوکیٹ حافظ محمد ایوب مہر نے احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ اسکے سٹی بائی پاس کے قریب گرین سٹی پراجیکٹ میں اس کے دو پلاٹ ہیں جس کی تمام ادائیگی کر دی گئی ہے بعد پراجیکٹ انتظامیہ سمیت سروئیر نے مجھے قانونی حثیت سے قبضہ دیا میں نے پلاٹوں تعمیرات (چاردیواری) کا کام شروع کرایا دو ماہ گذرنے کے بعد ہی پراجیکٹ انتظامیہ کے قبضہ مافیا نے میرے قانونی پلاٹوں پر تعمیرات کو مسمار کرنا شروع کردیا جس کی اطلاع متعلقہ تھانہ ائیر پورٹ پر دی تھی پولیس نے تین افراد کو گرفتار کیا بااثر ہونے کی بناء پر انہیں چھوڑ دیا بلڈر مافیا کی زیادتیوں کے خلاف متعلقہ اداروں کے بالا افسران کو تحریری طور پر شکایات کی لیکن ابتک انصاف نہیں مل سکا ہے متعلقہ تھانے کی پولیس بھی بااثر قبضہ مافیا کے خلاف کاروائی کرنے سے گریز کررہی ہے اور نا ہی مجھے انصاف و تحفظ فراہم کیاجارہا ہے الٹا ملوث جوابدار مجھے سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں جو سراسر ظلم و زیادتی ہے ایڈوکیٹ محمد ایوب مہر نے چیف جسٹس آف پاکستان،آرمی چیف ،وزیر اعظم ،وزیر داخلہ،چیف جسٹس آف سندھ ہائی کورٹ سکھر،سیشن جج سکھر آئی جی سندھ پولیس،ڈی آئی جی سکھر،ایس ایس پی سکھر،کمشنر سکھر سمیت دیگر بالا حکام سے نوٹس لیکر انصاف و تحفظ فراہمی کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

میرا صحافتی سفر کی کہانی میری زبانی"

 "میرا صحافتی سفر کی کہانی میری زبانی"

ازقلم: *طاہرعباس جنرل سیکرٹری تحصیل پریس کلب رجسٹرڈ کبیروالا*

03037967355


الطاف حُسین حالی نے کہا تھا۔ رہبر بھی، یہ ہم دَم بھی، یہ غم خوار ہمارے۔ اُستاد یہ قوموں کے ہیں، معمار ہمارے۔ بے شک کسی بھی شخصیت کی عمارت کتنی ہی بلند و بالا کیوں نہ تعمیر ہو، اُس کی بنیادوں میں بہر حال ایک اچھے استاد کی بہت مہارت سے لگائی گئی اینٹوں، مٹّی، گارے، سیمنٹ ہی کا عمل دخل ہوتا ہے اور شمع صحافت محمد جاوید اقبال خان ایک ایسے ہی یکتائے زمانہ استاد تھے کہ جنہیں اَن گنت شخصیات کے معمار ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ضلع خانیوال میں اُن کے شاگردوں میں بڑے بڑے نام شامل ہیں، ہم تو خیر اُن کی خاکِ پا بھی نہیں، لیکن ایک خوشی ضرور ہے کہ اُن خوش بختوں میں ہمارا نام بھی کہیں شامل ہے، جنہیں محمد جاوید اقبال خان کی سر پرستی میسّر رہی۔ اُن کے بحرِ علم سے چند ڈول بھرنے کی سعادت نصیب ہوئی اور بعد ازاں اُن کے پسندیدہ شاگرد کی فہرست میں جگہ بنانے کا شرف و امتیاز بھی حاصل رہا۔ محمد جاوید اقبال خان اپنے نام کی طرح سنجیدگی و متانت، تہذیب و وقار، شستگی وشائستگی کے پیکر، بہت مستحکم، پختہ عقائد و تصوّرات کی حامل شخصیت کے مالک تھے، تو ساتھ ہی نہایت شفیق، مہربان، نرم دل و نرم خُو استاد بھی تھے۔ لیکن جس طرح کبھی کبھی کسی کا کہا کوئی ایک جملہ یک بیک، براہِ راست دل میں اُترتا محسوس ہوتا ہے، کسی کا سُجھایا، دِکھایا ہوا راستہ سیدھا منزل ہی تک لے جاتا ہے، بالکل اِسی طرح بحیثیت طالبعلم اگرچہ ہمارا اُن سے قربت کا تعلق کم عرصے پر محیط رہا، لیکن بہت دیرپا تھا، جس کے اثرات، نقوش اپنی ہستی پر آج بھی بڑے گہرے، بہت پائیدار محسوس ہوتے ہیں۔ محمد جاوید اقبال خان کی وفات کے بعد ملتان، لاہور اور اسلام آباد میں کئی بزرگ صحافی جو استاد جاوید اقبال خان کی ٹیم کے ساتھ رابطے اور دوران ملاقات بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ پھر اچانک ایک دن کبیروالا کے فعال صحافی راو شفیق صاحب سے ملاقات ہوئی تو دوبارہ ان کے ساتھ علاقائی مسائل کی کوریج کرنا شروع کر دیں اور کبیروالا کی صحافی برادری میں جان پہچان بنتی گئی پھر ایک روز راو شفیق نے میری ملاقات ملک ارسلان عباس اعوان نمائندہ نیو نیوز سے کروائی جس کے والد اور بھائی عوام کی خدمت کے لیے دن رات محکمہ پولیس میں کوشاں ہیں ان سے ملاقات کے بعد صحافت میں دلچسپی مزید بڑھ گئی اور اپنے دوست ملک عثمان کے ساتھ مل کر City Pak News HD کے نام سے یوٹیوب چینل بنایا اور آن لائن سیاسی پروگرام شروع کر دیے۔ وقت کے ساتھ ساتھ بانی پریس کلب پیر محسن شاہ، راو ساجد محمود، راو امجد ندیم سابقہ جنرل سیکرٹری پریس کلب کبیروالا اور اویس گجر جیسے کئی دوستوں سے ملاقاتیں ہوئیں اسی اثناء میں رضااللہ خان پرنسپل مسلم کالج کبیروالا کی سرپرستی میں سوشل میڈیا ٹیم کا الیکشن ہوا کمیٹیاں قائم ہوئیں جسمیں 4 پینل پر مشتمل ٹیمیں بن گئیں اور صحافی کئی گروپوں میں تقسیم ہوکر رہ گئے۔ جس میں راو شفیق اور اویس گجر نمائندہ سما نیوز میرے مدمقابل تھے اور اس پینل کی سرپرستی اور کمپین ملک ارسلان عباس اعوان نے کی چاروں پینل کی کمپین سوشل میڈیا سے ووٹرز کے گھروں تک چلی گئی اور مقررہ تاریخ کو پولنگ لگایا گیا کرونا وائرس کا عروج تھا ایجنسیاں کے اہلکار پولنگ اسٹیشن پر چھاپہ مارنے کےلیے تیار رہیں مگر پولنگ ڈے پر ہماری ووٹنگ آن لائن ہوئی۔ شام کو رزلٹ بوگس ووٹوں کے ذریعے چوہدری فاروق آرائیں گلیسی بک سنٹر والے پینل کو کامیاب کروا دیا اور باقی 3 پینل نے الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا۔ پھر ایک دن شمس گجر بیوروچیف ملتان ویلی کی کال آئی اور ملنے کا اصرار کیا تقریبا دو گھنٹے بعد تحصیل پریس کلب رجسٹرڈ کبیروالا میں ملاقات ہوئی جہاں پر انہوں نے تحصیل پریس کلب میں شامل ہونے کی دعوت دی اور اگلی ملاقات کا ٹائم طے ہوا۔ اگلے روز صبح شمس گجر کی کال موصول ہوئی تو وعدہ کے مطابق میں پریس کلب پہنچا جہاں پر پریس کلب کے چیئرمین ملک ظفرافضال حیدر صاحب اور صدر قسور عباس خان صاحب اور پریس کلب ممبران شامل تھے یہ میری پریس کلب والوں سے پہلی ملاقات تھی۔ گفتگو کئی گھنٹے جاری رہی بلآخر میں نے پریس کلب کے ساتھ چلنے کی حامی بھر لی۔ خصوصاً وہ ایک واقعہ تو بس زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا کہ جس نے سوچوں کا رُخ ہی بدل دیا، گویا اگلی پوری زندگی کے لیے ایک لائحہ عمل مرتّب ہوگیا۔

بلاشبہ، میرا شمار پہلے دن ہی سے صحافت کے اچھے شاگردوں میں ہوتا تھا، لیکن کسی بھی استاد نے کبھی اس طور ہمت بندھائی، نہ حوصلہ افزائی کی، جیسی چیئرمین ملک ظفرافضال حیدر نے اپنی غالباً دوسری یا تیسری ہی ملاقات میں کی، جب چیئرمین صاحب نے تمام پریس کلب ممبران کو ایم ایس عمارہ اور عملہ THQ کی بدتمیزی پر ایک اہم تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کبیروالا واقعے کے حوالے سے ایک تاثراتی تحریر "مسیحائی کے لبادہ میں لپٹے غلیظ اور بد کردار لوگ" لکھنے کا اسائنمنٹ دیا۔ اگلے روز اسائنمنٹ جمع کروایا، تو دل سخت ڈرا ہوا تھا کہ چیئرمین پریس کلب بظاہر نرم خُو، خندہ رُو تھے، لیکن اُن کی سنجیدگی اور بعض اوقات عام سی بات میں بھی پنہاں گہرے معنی سے کسی بھی قسم کی خوش فہمی پر ایک پَل میں گھڑوں پانی پڑسکتا تھا۔ کچھ مزاج کا بھی اتنا اندازہ نہ تھا کہ کس قسم کا طرزِ تحریر پسند کرتے ہیں۔ پریس کلب میں ایک کے بعد ایک اسائنمنٹ چیک کر کے واپس کرتے رہے۔ ساتھ ساتھ ہر ممبر کی غلطیوں، خامیوں، کوتاہیوں کی نشان دہی بھی کرتے جا رہے تھے۔ T سے شروع ہونے والے طالبِ علم کا نام پکارا گیا تو میری تو جیسے سانس چلنا بند ہوگئی۔ مگر میرا نام نہیں آیا۔ میری نظریں روسٹرم سے جیسے چپک سی گئی تھیں۔ اور پھر… چیئرمین پریس کلب کے ہاتھ میں صرف ایک اسائنمنٹ رہ گیا اور وہ یقیناً میرا ہی تھا۔ میری اوپر کی سانس اوپر، نیچے کی نیچے تھی۔ مجھےلگا، آج پریس کلب میں بہت ’’عزّت افزائی‘‘ ہونے والی ہے۔ چیئرمین صاحب نے میرا نام پکارا، ’’طاہر عباس‘‘ مَیں سیٹ سے کھڑا ہوگیا۔ ’’جی سر!‘‘ ’’کیا آپ یہاں آکر اپنی یہ تحریر خود پڑھ کر سُنا سکتے ہیں؟‘‘ 

اللہ جانتا ہے کہ سیٹ سے روسٹرم تک فاصلہ طے کرتے جیسے ایک ایک قدم مَن مَن بھر کا ہوگیا تھا۔ پھر چیئرمین کے پاس کھڑے ہو کر پورے پریس کے سامنے اپنی تحریر پڑھنا موت کے کنویں میں سائیکل چلانے کے مترادف تھا، لیکن چوں کہ تحریر سچّے احساسات و جذبات کے ساتھ بڑی دل جمعی سے لکھی تھی۔ سو، اُن ہی تاثرات کے ساتھ بہت روانی وشائستگی سے باآوازِ بلند پڑھ ڈالی۔ نظریں تحریر کی آخری سطروں پر تھیں، جب کانوں میں پہلی زور دار تالی کی آواز گونجی، جو یقیناً چیئرمین پریس کلب کی طرف سے ملنے والی داد تھی اور پھر یہ گونج بڑھتی ہی چلی گئی۔ پورا پریس کلب کی تالیوں کے شور میں چیئرمین ملک ظفرافضال حیدر کے جملے سماعتوں سے ٹکرائے ’’شاباش! اسے کہتے ہیں تاثراتی تحریر۔‘‘ ایسی ستایش، اتنی حوصلہ افزائی، آنکھیں نمکین پانیوں سے بَھر گئیں۔ ماتھے پہ چمکتی پسینے کی بوندیں خشک اور خشک ہونٹ بھیگی سی مُسکراہٹ سے تر ہونے لگے۔ میرے لڑکھڑاتے قدم جیسے جَم سے گئے تھے۔ یوں لگا، جیسے اگلی پوری زندگی کا رُخ متعیّن ہو گیا ہے یا کم از کم اُس پگڈنڈی پر قدم ضرور جا پڑے تھے، جس نے بالآخر کسی نہ کسی روز منزل تک لے جانا تھا۔

آج اگر چار جملے لکھنے، چار لوگوں کے بیچ بیٹھ کر بات کرنی آتی ہے، تو یہ محمد جاوید اقبال خان اور چیئرمین ملک ظفرافضال حیدر جیسے اساتذہ کے سامنے زانوئے ادب/ تلمّذ تہہ کرنے ہی کا نتیجہ ہے۔ وہ کیا ہے کہ۔ جو علم کا علم ہے، استاد کی عطا ہے… ہاتھوں میں جو قلم ہے، استاد کی عطا ہے۔

کئی ’’درِّ نایاب‘‘ تو اپنی رَو میں بہا لے گیا۔ کچھ حساس طبع، زود رنج ویسے بھی اپنی طبعی عُمر پورے کر رہے ہیں۔ عالم یہ ہے کہ چراغ بُجھتے چلے جا رہے ہیں سلسلہ وار۔ اور زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے۔ اور وہ جو منصور ساحر نے کہا ہےکہ یکتائے فن کی ساری مہارت سپرد خاک … بس یاد رہ گئی ہے، زیارت سپرد خاک… الفت کا آفتاب زمیں بوس ہوگیا… کرنی پڑے گی ہم کو محبّت سپرد خاک۔ تو قائد استاد محمد جاوید اقبال خان پر تو بے لوث محبّتوں، عقیدتوں کے اتنے گُل نچھاور ہو رہے ہیں، بے ریا آنسوؤں کے اس قدر نذرانے لُٹائےجارہے ہیں کہ محبّت سپرد خاک ہوکے بھی تاابد زندہ رہےگی۔ شمع صحافت محمد جاوید اقبال خان صاحب بے لاگ اداریہ نویس ہی نہیں، انتہائی شفیق، مدبّر استاد اور بہترین رہنما بھی تھے۔ اُن کے کئی شاگرد آج زندگی میں جہاں جہاں، جس جس مقام پر ہیں، اُن ہی کی بدولت ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ اُن کا سفرِ آخرت، نرم پھولوں کے بستر سا ہو اوراُن کے تمام شاگرد اُن کے لیے بہترین صدقہ جاریہ ثابت ہوں۔

کس بت کو پکارے کہ داد رسی ہو انصاف کے مندر میں اکیلی ہی کھڑی ہے *کبیروالا تھانہ بارہ میل کی حدود موضع ماڑی سہو میں یتیم بچوں پر ظلم کی انتہا جاگیر داروں اور مقامی پولیس نے ساز باز ہو کر بیوہ خاتون کی وراثتی جائیداد پر قبضہ کرلیا تلی کی فصل پر حل چلا دیے مزہمت پر بیوہ کو تشدد کا نشانہ بھی

 رپورٹ۔ *طاہر عباس جنرل سیکرٹری تحصیل پریس کلب رجسٹرڈ کبیروالا*



کس بت کو پکارے کہ داد رسی ہو

انصاف کے مندر میں اکیلی ہی کھڑی ہے

*کبیروالا تھانہ بارہ میل کی حدود موضع ماڑی سہو میں یتیم بچوں پر ظلم کی انتہا جاگیر داروں اور مقامی پولیس نے ساز باز ہو کر بیوہ خاتون کی وراثتی جائیداد پر قبضہ کرلیا تلی کی فصل پر حل چلا دیے مزہمت پر بیوہ کو تشدد کا نشانہ بھی بنا ڈالا*


تفصیلات کے مطابق تھانہ بارہ میل کی حدود موضع ماڑی سہو کی رہائشی بیوہ خاتون عزیز بی بی کی وراثتی زرعی زمین پر مقامی پولیس اور جاگیر داروں نے ساز باز ہو کر ناجائز قبضہ کر لیا بیوہ خاتون کو مزاحمت پر تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے رہے، متاثرہ عورت دادرسی کے لیے چیختی چلاتی رہی، مگر کوئی دادرسی کے لیے نہ پہنچ سکا۔

یتیم بچوں اور بیوہ خاتون نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مقامی جاگیردار ڈاکٹر اکمل سہو اور مقامی ایس ایچ او حنیف گجر نے ساز باز ہو کر اپنے اختیارات کا نا جائز استعمال کرتے ہوئے پولیس نفری کے ہمراہ ہماری وراثتی زمین چار کنال پر قبضہ کر لیا تلی کی فصل پر حل چلا دیے مزہمت پر بیوہ اور کم سن بچوں کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

متاثرہ خاتون اور یتیم بچوں نے ڈی پی او خانیوال، آر پی او ملتان، آئی جی پنجاب، اور وزیراعلی پنجاب مریم نواز صاحبہ سے دادرسی کی اپیل کرتے ہوئے بارہ میل پولیس اور جاگیر داروں کی غنڈہ گردی کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

سکھر(بیورو رپورٹ)صوبائی وزیر انرجی اور پاور سید ناصر حسین شاہ سے سیپکو چیف سعید ڈاوچ اور سیپکو ٹاسک فورس ریجنل انچارج عقیل احمد جونیجو کی علی ہاؤس میں اہم ملاقات





، اس موقع پر سی ئی او سیپکو سعید احمد ڈاوچ نے صوبائی وزیر انرجی اور پاور سید ناصر حسین شاہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بجلی کی روک تھام کے لیے ٹاسک فورس ریجنل انچارج عقیل احمد جونیجو کی قیادت میں دن رات کام کر رہی ہے جس میں سینکڑوں کی تعداد میں بجلی چوروں کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی ہے اور مقدمات بھی درج کروائے گئے ہیں اور بجلی بلوں نادہندگان کی وصولی کی جارہی ہے جس میں کروڑوں روپے وصول کیے گئے ہیں،واپڈا سیپکو کی بہتری کےلئے ٹیمیں کام کررہی ہیں، ٹاسک فورس ریجنل انچارج عقیل احمد جونیجو کی قیادت میں سکھر، گھوٹکی، خیرپور، جیکب آباد،کندھ کوٹ، کشمور، لاڑکانہ، دادو ،نوشہروفیروز سمیت دیگر اضلاع میں دن ہو یا رات جان ہتھیلی پر رکھ کر کام کررہی ہیں،جس کو بااثر لوگ سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے پر اتر آتے ہیں لیکن اس کے باوجود عملہ دیانت داری سے کام کررہاہے،سی ئی او سعید ڈاوچ نے مزید بتایا کہ سولر پینل کے انسٹالیشن سے عوام کو ریلیف ملے گا جو عوامی شکایات ہیں وہ جلد ختم کی جائے گی اور شکایات کا ازالہ کیا جائے گا جس پر صوبائی وزیر انرجی آور پاور سید ناصر حسین شاہ نے سی ئی او سعید احمد ڈاوچ اور سیپکو ٹاسک فورس کی ٹیم کی جدوجہد کی تعریف کی اور جلد سے جلد عوام کو بجلی‌کی لوڈشیڈنگ سمیت تمام شکایات ختم کرنے کی ہدایت کی 

 سکھر( پاکستان آن لائن نیوز ایچ ٹی سید ضیاءالرحمٰن)

سکھر پولیس نے ایس ایس پی سکھر امجد احمد شیخ کی ہدایت پر سماجی برائیوں میں ملوث افراد کے خلافکریک ڈاؤن جاری رکھا ۔



  ایس ایچ او تھانہ اے سیکشن کا مغفی اطلاع پر نیو گوٹھ کے قریب کامیاب کاروائی کرتے ہوئے ، گودام پر چھاپے کے دوران بھاری مقدار میں گٹکہ، ماوا چھالیہ بنانے والا مٹیرئیل برآمد، 02 ملزمان کو گرفتار کر لیا .سکھر پولیس نے چھاپے کے دوران گودام سے بھاری مقدار میں گٹکہ، ماوا، چھالیہ کی بوریاں اور بنانے والا سامان برآمد کیا گیا۔

گرفتار ملزمان میں عبداللہ بندھانی اور سلمان راجپوت شامل ہیں ۔  

گرفتار ملزمان کے خلاف گٹکہ ایکٹ تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ایس ایس پی سکھر امجد احمد شیخ کا پولیس پارٹی کی بہتر کاروائی پہ شاباش کا پیغام سمیت مزید کاروائیاں تیز کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں

 سکھر( پاکستان آن لائن نیوز ایچ ڈی سیدضیاءالرحمٰن )



اسلام آباد سے آنے والے سینئر صحافیوں مطیع اللہ جان ، رضا ہمدانی اور فرخ تنویر کی کورٹ رپورٹرز ایسوسیشن کی دعوت پر سکھر پریس کلب آمد پریس کلب میں معزز مہمانوں کے اعزاز میں ہائی ٹی کا اہتمام کیا گیا ۔۔

 معزز مہمانوں کو سکھر پریس کلب کے صدر آصف ظھیر لودھی ، سکھر یونین آف جرنلسٹس کے نائب صدر خالد بھانبھن اور جنرل سیکریٹری سید احقر رضوی نے سندھ کی ثقافت اجرک کا تحفہ پیش کیا مہمانوں کو پریس کلب کا وزٹ کروایا گیا مہمانوں نے سکھر پریس کلب میں صحافیوں کیلئے فٹنیس اور کھیلوں سمیت دیگر بھتر انتظامات اور سہولیات مہیہ کرنے پر محترم لالا اسد پٹھان سمیت پریس کلب انتظامیہ کی تعریف کی اس کے علاؤہ سکھر یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکریٹری سید احقر رضوی نے یونین کے کام کے حوالے سے مہمانوں کو آگاھ کیا جس پر مہمانوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سکھر یونین آف جرنلسٹس نے ہمیشہ سندہ سمیت ملک بھر کے صحافیوں کے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے کے ساتھ عملی طور پر جدوجھد بھی کی ہے بعد ازاں اسلام آباد سے آنے والے سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے سکھر پریس کلب میں صحافیوں کو کورٹ رپورٹنگ کے متعلق آگاہی دی اس موقع پر سکھر پریس کلب کی نائب صدر اور سندہ وومین جرنلسٹس ایسوسیشن کی صدر میڈم سحرش کھوکھر ، کورٹ رپورٹرز ایسوسیشن کے صدر سلیم سھتو نائب صدور انس گھانگھرو اور شفیع محمد ابڑو کے علاؤہ سینئر صحافی جلال الدین بھیو ، فرید سومرو ، قاضی ضیاء الرحمن ، جھانزیب وسیر علی کھوسو ، اسامہ طلعت انس ملک اور شعیب ملک بھی موجود تھے ۔

مگر تاریخ نے دیکھا

 ‏مگر تاریخ نے دیکھا...

(آج تک کی سب سے زبردست تحریر)




عمران خان کے بارے میں لفافی ٹی وی چینلز اور بکاؤ صحافیوں کی 10 پیشنگوئیاں جو بالکل الٹ ہو گئیں


1 پہلی پیشنگوئی

♦️ "عمران خان اسٹیبلشمنٹ کا سلیکٹڈ ہے جیسے ہی فوج اس سے اپنا ہاتھ کھینچے گی یہ دھڑم سے زمین پر گر جائے گا"

مگر تاریخ نے دیکھا کہ فوج نے جیسے ہی عمران خان کے خلاف سازش کی فوج کے وہ جرم بھی ننگے ہو گئے جو آج تک چھپے تھے


2 دوسری پیشنگوئی

♦️ "جیسے ہی عمران خان کی حکومت ختم ہو گی لوگ اسے بھول جائیں گے"

مگر تاریخ نے دیکھا کہ عمران خان لوگوں کے دلوں کی دھرکن بن گیا


3 تیسری پیشنگوئی

♦️ "وزیراعظم کی کرسی سے اترتے ہی عمران خان لندن اپنی سابقہ بیوی جمائمہ کے پاس چلا جائے گا"

مگر تاریخ نے دیکھا کہ وہ شیر کا بچہ بھگوڑے نواز شریف کی طرح نہ سعودیہ بھاگا نہ لندن بلکہ ڈٹ کے کھڑا ہے


4 چوتھی پیشنگوئی

♦️ "عمران خان آرام پسند ہے اگر اسے جیل میں ڈالا گیا تو دو دن جیل برداشت نہیں کر سکے گا"

مگر تاریخ نے دیکھا کہ کہ وہ مرد کا بچہ کھڑا ہے


5 پانچویں پیشنگوئی

♦️ "عمران خان کے ورکر ممی ڈیڈی نازک برگر بچے ہیں جوسختیاں برداشت نہیں کر سکیں گے"

مگر تاریخ نے دیکھا کہ کہ جتنی سختیاں اور ظلم تحریک انصاف کے ورکرز نے برداشت کیے اس کے آدھے ظلم بھی ن لیگیوں اور پیپلزپارٹی والوں پر ہوتے تو یہ سیاست ہی چھوڑ جاتے


6 چھٹی پیشنگوئی

♦️ "عمران خان نشے کا عادی ہے جب جیل میں جائے گا تو نشہ نہیں ملے گا دو دن جیل میں نہیں نکال سکے گا"

مگر تاریخ نے دیکھا کہ وہ اللہ کا بندہ دس ماہ سے جیل میں ہے وہ قران پڑھ رہا ہے ورزش کر رہا ہے اور اللہ پر توکل سے مطمئن ہے


7 ساتویں پیشنگوئی

♦️ "عمران خان الیکشن میں ٹکٹ لے کر کھڑا ہو گا مگر کوئی لینے والا نہیں ہو گا"

مگر تاریخ نے دیکھا کہ پندرہ پندرہ لوگ ایک حلقے میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے خواہش مند ٹکٹ مانگتے رہے


8 آٹھویں پیشنگوئی

بلے کے نشان کے چھن جانے پر👇

♦️ "اب عوام کنفویز ہوجائے گی کیونکہ مختلف نشان ہوں گے اور ووٹ تقسیم ہو جائے گا"

مگر تاریخ نے دیکھا کہ گاؤں اور دیہات کے ان پڑھ لوگوں نے بھی تحریک انصاف کے آزاد امیدواروں کے مشکل مشکل نشان ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان پر ٹھپہ لگایا


9 نویں پیشنگوئی

9 مئی کے بعد👇

♦️ "اب تو خان مکمل ختم ہو گیا روزانہ لوگ پریس کانفرس کر کے اُسکی پارٹی چھوڑ رہے ہیں"

مگر تاریخ نے دیکھا کہ 9 مئی کروانے والے جرنیل خود ختم ہو گئے مگر عمران خان اب بھی باقی ہے


 10 دسویں پیشنگوئی

♦️ "تحریک انصاف کا ووٹر مایوس ہو گیا ہے اب وہ 8 فروری کو نہیں نکلے گا عمران خان بمشکل 10 سے 15 سیٹیں جیت سکے گا"

مگر تاریخ نے دیکھا کہ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں پہلی بار کسی پارٹی کو 200سے زیادہ سیٹیں ملیں حتی کہ نواز شریف لاہور کی اپنی آبائی سیٹ یاسمین راشد سے ہار گیا


جانتے ہیں کیوں؟؟؟

کیونکہ خان ہمیشہ کہتا ہے کہ ایک پلان انسان بناتا ہے اور ایک فیصلہ اللہ کا ہوتا ہے

اور ہوتا وہ ہی جو رب کا فیصلہ ہو.

ایف آئی اے کے تفتیش کاروں کی اڈیالہ جیل میں بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات

 ایف آئی اے کے تفتیش کاروں کی اڈیالہ جیل میں بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات 




بانی چیئرمین تحریک انصاف کے ایکس (سابق ٹویٹر) پر پوسٹ کی جانے والی حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ کے مندرجات پر مشتمل ویڈیو کے حوالے سے سوال جواب 


کسی بھی معاملے پر تفتیش سے پہلے ایف آئی اے میرے خلاف سائفر جیسا بےبنیاد مقدّمہ بنانے پر مجھ سے معافی مانگے، بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان 


سائفر کے بعد بطور وزیراعظم میں نے پاکستان کی خودمختاری کے تحفّظ اور اپنی قوم کا سر فخر سے بلند کرنے کیلئے امریکیوں کو احتجاجی مراسلہ بھجوایا اور حقائق اپنی قوم کے سامنے رکھے، عمران خان 


اپنی قوم کیلئے میرا پیغام واضح تھا کہ ہم ایک خودمختار اور غیرت مند قوم ہیں جو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت ہرگز قبول نہیں کرتی، عمران خان 


سائفر درحقیقت جنرل باجوہ کو بھیجا گیا تاٗکہ وہ اس کے مطابق میری منتخب جمہوری حکومت کو ختم کرسکے، عمران خان 


جنرل باجوہ نے اپنی مدتِ ملازمت میں توسیع کیلئے چوروں سے ساز باز کی اور انہیں قوم پر مسلط کیا گیا، عمران خان 


میں اپنے ایکس (ٹویٹر) اکاؤنٹ پر کی جانے والی پوسٹس کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں تاہم جیل میں ہونے کے باعث اپ لوڈنگ سے پہلے ویڈیو نہیں دیکھ سکا، عمران خان 


آج مجھے ویڈیو دکھائی گئی جو حمودالرحمٰن کمیشن کے مندرجات پر مشتمل ہے، عمران خان 


اگر اپ لوڈنگ سے قبل ویڈیو دکھائی جاتی تو پیغام کو مزید مؤثر کرنے کیلئے اس میں چند معمولی تبدیلیاں کرتا، عمران خان 


حمودالرحمان کمیشن رپورٹ ہماری قومی تاریخ کے المناک حادثے کے اسباب، وجوہات اور کرداروں کا احاطہ کرتی ہے، عمران خان 


حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کے دو بنیادی اہداف تھے جن میں ایک سانحے کے ذمہ داروں کا تعین جبکہ دوسرا غلطیوں کی نشاندہی تھا، عمران خان 


حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ کا حوالہ اس لئے دیا کہ ہم ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کریں، عمران خان 


حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ کے پیرائے میں جنرل یحییٰ خان پر جتنی تنقید کی جاتی ہے وہ ان کی سیاسی فیصلہ سازی پر کی جاتی ہے، عمران خان 


مشرقی پاکستان میں تعینات جنرل یعقوب اور ایڈمرل احسن نے یحیٰ خان کو مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن سے منع کیا جس پر انہیں مستعفیٰ ہونا پڑا، عمران خان 


دستور فوج کو سیاست سے مکمل طور پر الگ تھلگ رہنے کا پابند بناتا ہے تاکہ تنقید سے محفوظ رہ کر اپنے پیشہ وارانہ فرائض سرانجام دے سکیں، عمران خان 


حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ نے واضح طور پر بیان کیا ہے کہ جنرل یحییٰ خان پوری طرح سیاسی فیصلہ سازی کے مرتکب تھے، عمران خان 


سیاسی فیصلوں پر پوری دنیا میں تنقید کی جاتی ہے اور جمہوریت سیاسی فیصلوں پر تنقید کو مکمل تحفظ فراہم کرتی ہے، عمران خان 


فوج کا سربراہ کسی انتخاب یا ریفرنڈم کے ذریعے مسند نہیں پاتا چنانچہ اس کا خود کو اور ادارے کو سیاست اور سیاسی فیصلوں سے الگ رکھنا ہی فوج کے مفاد میں ہوتا ہے اور آئین بھی اسی کا حکم دیتا ہے، عمران خان 


فوج کا سربراہ جب سیاست میں ملوث ہوتا یا سیاسی فیصلے کرتا ہے تو اپنے منصب سے الگ ہو کر سیاسی دائرے میں قدم رکھتا ہے، عمران خان 


انتخابات کے بعد فیصلہ کن برتری اور عوامی مینڈیٹ کی حامل حکومت کو اقتدار منتقل نہ کرنا اور ملک کو المناک حادثے کی بھینٹ چڑھنے دینا جنرل یحیٰ خان کے فیصلے تھے، عمران خان 


عوامی مینڈیٹ کا احترام نہ کرنے پر تب حالات تیزی سے داخلی انتشار اور بگاڑ کی جانب گئے اور ملک دولخت ہوا، عمران خان 


یحییٰ خان کے سیاسی فیصلوں میں حصہ لینے کے اسی شوق کی پاکستان اور افواجِ پاکستان نے بھاری قیمت ادا کی، عمران خان 


سیاسی فیصلے کرنے اور پوری طرح سیاست میں ملوث ہونے کے بعد جنرل یحییٰ خان کیلئے فوج کے پیچھے چھپنا ہرگز ممکن نہ تھا چنانچہ حمود الرحمٰن کمیشن اور تاریخ دونوں نے اس کے کردار پر اپنی تنقیدی رائے دی، عمران خان 


ستر کے واقعات اور آج کے حالات کے مابین غیرمعمولی مماثلت ہر ذی شعور پاکستانی کیلئے تشویش کی وجہ ہے، عمران خان 


ستّر میں ملک دولخت ہوا تو آج ہماری معیشت زمین بوس ہو چکی ہے جبکہ اس میں بہتری کے امکانات کم سے کم تر ہوتے چلے جارہے ہیں، عمران خان 


ایس آئی ایف سی کے ذریعے معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی کوشش بری طرح ناکام ہوئی ہے، عمران خان 


ملک کی سب سے بڑی اور عوامی مینڈیٹ کی حامل جماعت کو لاقانونیت سے کچلنے کی کوشش کرکے معیشت میں بہتری نہیں لائی جا سکتی، عمران خان 


ایف آئی اے سراغ لگائے کہ اظہرمشوانی کے بھائیوں کو کس نے کس جرم میں اغوا کیا، عمران خان 


سوشل میڈیا ورکرز ہمارے ہیروز اور قوم کا اثاثہ ہیں، ان کی اور ان کے اہلِ خانہ کی ہراسگی کا سلسلہ بند ہونا چاہئیے، عمران خان 


ملکی معیشت کی بہتری کے امکانات تبھی پیدا ہوں گے جب عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے گا اور فیصلہ سازی عوامی مینڈیٹ کے حامل جمہوری نمائندوں کو سونپی جائے گی، عمران خان


Imran Khan

 ‼️ *معاشرہ کیسے بگڑتا ہے؟* 

حمیدالدین سولنگی 




کیا آپ جانتے ہیں کہ معاشرہ کیسے اُجڑتا ہے؟ کیسے بگڑتا ہے؟ کیسے وہ جرائم پیشہ لوگوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے؟ کیسے وہ شریفوں کے لیے رہائش کے قابل نہیں رہتا؟ آئیے ذرا ہم آپ کو ایک جھلک دکھا دیتے ہیں، کچھ اسباب اور عوامل گنوا دیتے ہیں کہ:

▪️جب آپ اپنی اور اپنے اہل وعیال کی اصلاح وتربیت سے غفلت برتتے ہیں!

▪️جب آپ کو یہ فکر لاحق نہیں ہوتی کہ آپ کی اولاد زندگی کیسے گزار رہی ہے؟ اور ان کے شب وروز کے مشاغل کیا ہیں؟

▪️جب آپ معاشرے میں پیدا ہونے والی برائیوں اور جرائم سے چشم پوشی کرتے چلے جاتے ہیں اور ان کی اصلاح اور روک تھام کی فکر نہیں کرتے!

▪️جب آپ محلے میں گھروں کے باہر بیٹھے جوانوں کو گپیں ہانکتے، گانے سنتے، فلمیں دیکھتے، آتی جاتی گھروں سے نکلتی اور داخل ہوتی عورتوں کو تاڑتے ہوئے دیکھتے ہیں لیکن انھیں برداشت کرتے جاتے ہیں!

▪️جب آپ معاشرے میں نشہ کرتے اور نشہ آور چیزیں فروخت کرتے لوگوں کو دیکھتے ہیں اور نظر انداز کرتے چلے جاتے ہیں!

▪️جب آپ اپنے محلے میں دیگر جگہوں سے آتے آوارہ لوگوں کو دوسروں کے گھروں کے باہر بیٹھتے دیکھتے ہیں لیکن آپ کے ماتھے پر تشویش کے بل نہیں آتے!

▪️جب آپ کے محلے میں نمازوں کے اوقات میں لوگ نماز ترک کرتے نظر آتے ہیں لیکن آپ انھیں نماز کی دعوت نہیں دیتے!

▪️جب آپ معاشرے میں جاری دینی، تربیتی اور اصلاحی سلسلوں کے ساتھ تعاون نہیں کرتے، ان کا ساتھ نہیں دیتے، ان کی اہمیت تسلیم نہیں کرتے، ان کی حمایت نہیں کرتے، بلکہ ان کی حوصلہ شکنی کرتے رہتے ہیں!

▪️جب آپ خود بھی برائیوں کی سنگینی اور اچھائیوں کی اہمیت سے آگاہ نہیں ہوتے!

▪️جب آپ کو اس پر تشویش لاحق نہیں ہوتی کہ آپ کے معاشرے میں نو عمر لڑکے اپنے سے بڑی عمر کے لڑکوں اور لوگوں کے ساتھ کیوں دوستیاں لگاتے ہیں!

▪️جب آپ کو اس پر پریشانی نہیں ہوتی کہ معاشرے میں خیر کے کاموں کے مقابلے میں شر اور برائی کے کام کیوں تیزی سے بڑھ رہے ہیں!

▪️جب آپ کو اس کا احساس نہیں ہوتا کہ تعلیمی اداروں کے آنے جانے کے اوقات میں راستوں اور گلی کوچوں میں جگہ جگہ لوگ کیوں بیٹھے نظر آتے ہیں اور ان کی وجہ سے گزرنے والی طالبات کو کس قدر تکلیف کا سامنا ہوتا ہے!

▪️جب آپ کو معاشرے میں بڑھتی بے پردگی اور بے حیائی پر کوئی دکھ اور افسوس نہیں ہوتا !

▪️جب آپ گیس، پانی اور بجلی جیسی ضروریات کے مسائل حل کرنے کے لیے تو لوگوں کو جمع کرنے اور اس کے لیے کمیٹیاں بنانے کو ضروری سمجھتے ہیں لیکن معاشرے سے برائیوں کے خاتمے، جرائم کی روک تھام اور ان کی اصلاح وتربیت کے لیے لوگوں کے جمع ہونے اور کمیٹیاں بنانے کو غیر ضروری سمجھتے ہیں!

▪️جب آپ کو یہ فکر پریشان نہیں کرتی کہ ایک مؤمن ہونے کے ناطے آپ پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی کس قدر ذمہ داری عائد ہوتی ہے!


ایسی کئی ساری باتیں ہیں جو معاشرے کو بربادی اور بے راہ روی کی طرف لے جاتی ہیں، ان کا حاصل صرف یہی ہے کہ اپنی ذات سے لے کر معاشرے تک برائی کو برداشت کرنا، اس سے چشم پوشی کرنا اور اس کی اصلاح وخاتمے کی فکر نہ کرنا، بس! یہی اس کا خلاصہ ہے اور یہی ہمارا ایک بہت بڑا المیہ ہے! 

آئیے ہم اپنی ذمہ داری محسوس کریں اور حکمت عملی کے ساتھ معاشرے میں پیدا ہوتی اور جڑ پکڑتی برائیوں کی روک تھام اور اصلاح کی کوشش کرتے رہیں اور اپنے معاشرے کو تباہی سے بچائیں!

ولی کامل خواجہ نور محمد مہاروی

 





ولی کامل خواجہ نور محمد مہاروی


کالم نگار:

محمّد شہزاد بھٹی 


عظیم روحانی بزرگ ولی کامل خواجہ نور محمد مہاروی کھرل 14رمضان 1146 ہجری کو بہاولنگر کی تحصیل چشتیاں کی بستی چھوٹھاسہ مہار شریف میں پیدا ہوئے، آپ کے والد کا اسم گرامی ہندال خاں کھرل اور والدہ کا نام عاقل خاتون تھا۔آپ کا سلسلہ چشتیہ ہے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم حضرت علامہ مولانا حافظ محمد مسعود مہار رحمتہ اللہ علیہ کے مکتب سے حاصل کی جو کہ معروف عالم دین تھے ان سے قرآن پاک حفظ کیا۔ آپ ابتدائی تعلیم اپنے گاﺅں مہار شریف سے حاصل کرنے کے بعد پھر تعلیم و تربیت اور فکری و روحانی فیض پانے کے لئے ڈیرہ غازی خاں، لاہور اور پھر دہلی تشریف لے گئے اور یہاں پر حضرت خواجہ فخرالدین دھلوی کے مرید ہوئے جو نظام الدین اولیاء ؒاور بابا فرید شکر گنجؒ پاکپتن والوں کے مرید تھے۔ اس وجہ سے آپ پاکپتن شریف سے بے حد عقیدت رکھتے تھے اور اس طرح آپ کا سلسلہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ سے جا ملتا ہے۔ آپ اکثر جمعةالمبارک کیلئے پاکپتن تشریف لے جاتے۔ طبیعت کی ناسازی اور ضعف العمری کی وجہ سے آپ کو  بابا فرید شکر گنجؒ کی طرف سے بشارت ہوئی کہ پرانی چشتیاں میں میرے پوتے بابا تاج سرور مدفون ہیں وہاں پر جمعة المبارک کی ادائیگی کیا کرو، بعد ازاں آپ نے اس درگاہ مبارکہ پر باقاعدہ حاضری دینا شروع کی اور باقی زندگی یہیں گزار دی۔آپ کی اولاد مبارکہ میں تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ آپ مادر زاد ولی تھے۔ ایک روایت ہے کہ ایک فقیر نے والدہ محترمہ کو دیکھ کر کہا کہ دختر نیک اختر کے پہلو میں لال چھپا ہے۔ ایک اور بزرگ نے آپ کی والدہ محترمہ کو دیکھ کر فرمایا اور تعزیم کے لیے کھڑے ہو گئے کہ زمانہ قطب اور آفتاب جہاں تمہاری پیشانی میں جلوہ گر ہے۔ آپ کے کشف و روحانیت کا سلسلہ ملک کے گوشہ گوشہ میں پھیلا ہوا ہے۔ آپ کے خلیفہ اول شاہ سلیمان تونسوی تھے۔ جن پر آپ انتہائی محبت اور شفقت فرماتے تھے۔ ایک روایت ہے کہ ایک شخص آپ سے بیعت ہونے کیلئے حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ تم بڑی دیر سے آئے ہو کہ دودھ کی بالائی تو پیر پٹھان کھا گیا یعنی میری فقیری، کشف اور روحانیت کا زیادہ حصہ شاہ سلیمان تونسوی لے گئے ہیں، باقی لسی رہ گئی ہے۔آپ کے خلفاء میں حضرت غلام فرید چاچڑاں شریف کوٹ مٹھن والے جن کی کافیاں دل موہ لیتی ہیں۔ نواب آف بہاولپور، محمد بھاول خاں ثانی کو بھی آپ سے والہانہ عقیدت تھی جو آپ کی بیعت بھی ہوئے۔ یہ سلسلہ حضرت خواجہ غلام رسول توگیری، خواجہ نور محمد نکی مانیکا حضرت خواجہ عبدالکریم نوری، منڈی صادق گنج اور حضرت خواجہ خدا بخش خیر پور ٹامے والی تک جاتا ہے۔ قبلہ عالم کا وصال 1205 ہجری میں ہوا اور ہر سال یکم تا تین ذوالحج آپ کا عرس مبارک بڑی شان و شوکت سے منایا جاتا ہے۔ دربار عالیہ پر تمام رسومات کی سرپرستی حضرت خواجہ غلام معین الدین مہاروی سجادہ نشین کرتے ہیں آپ کے عرس مبارک کے سلسلے میں ضلع بہاولنگر میں عام تعطیل ہوتی ہے اور لاکھوں زائرین دور و نزدیک سے آپ کے مزار پر انوار پر عرس مبارک میں ہر سال شریک ہوتے ہیں اور فیوض و برکات سمیٹتے ہیں۔ آپ کا فیضان قیامت تک جاری رہے گا، اللہ کریم ان ہستیوں کے وسیلہ سے ہمارے ظاہر باطن اور قلب کو روشن فرمائے۔ آمین

 رحیم یار خان (کرائم رپورٹر) 

پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار شہید 3 زخمی ہوگئے زخمی اہلکاروں کو شیخ زید ہسپتال منتقل کر دیا گیا ترجمان پولیس کے مطابق تھانہ شیدانی کے علاقے خانبیلہ میں ٹینٹ سروس پر ہونے والی ڈکیتی کی واردات کی اطلاع پر پولیس پہنچ گئی پولیس پہنچنے پر 6 ڈاکوؤں نے پولیس پارٹی پ


ر اندھا دھند فائرنگ کر دی پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان دو طرفہ فائرنگ کے نتیجے کانسٹیبل محمد شفیع اور ذیشان سمیت 2 اہلکار شہید جبکہ گولیاں لگنے سے 3 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ پولیس موبائل کو فائرنگ سے نقصان پہنچا زخمی اہلکاروں کو شیخ زید ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے جبکہ پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کرکے فرار ہونے والے ڈاکوؤں کی تلاش میں علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے


عمران خان کے ایف آئی اے تفتیشی ٹیم کو دیے گئے جواب کی مکمل تفصیلات

 عمران خان کے ایف آئی اے تفتیشی ٹیم کو دیے گئے جواب کی مکمل تفصیلات۔







تفصیلات سے پہلے کچھ اہم باتیں پڑھ لیں۔۔ جو میرا زاتی مشاہدہ ہے۔۔!!!

جواب پڑھ کر ایک بات آپ مان جائیں گے کہ۔۔
مرشد سچ میں جیل جاکر پہلے سے کئی زیادہ خطرناک ہوچکا ہے۔۔ اور اسکو نہ چھوڑنے کی سب سے بڑی وجہ وہ ڈر ہے جو ان چوروں کو لگا ہوا ہے کہ۔۔ یہ باہر آکر ہمارا حشر نشر کردے گا۔۔
آپ کچھ دیر کیلئے بھول جائو گے۔۔ کہ یہ بندہ تقریبا دس ماہ سے جیل میں ہے۔۔ یا اس وقت ملک کے کسی سب سے بڑے عہدے کا مالک ہے۔۔
دوسرا۔۔ جواب پڑھتے ہوئے ایک بات پر فور کریں کہ۔۔ مرشد کی ایک ایک بات اتنی مضبوط دلیل کے ساتھ ہے کہ۔۔ لگ رہا ہے جیسے کسی چوٹی سے قانون دان، کسی انتہائی منجھے ہوئے وکیل نے دلائل تہار کیے ہوں۔۔!!!

سب سے پہلے مرشد نے ایف آئی اے ٹیم سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔۔ جھوٹا کیس بنانے پر۔۔🔥

"کسی بھی معاملے پر تفتیش سے پہلے ایف آئی اے میرے خلاف سائفر جیسا بےبنیاد مقدّمہ بنانے پر مجھ سے معافی مانگے۔۔
سائفر کے بعد بطور وزیراعظم میں نے پاکستان کی خودمختاری کے تحفّظ اور اپنی قوم کا سر فخر سے بلند کرنے کیلئے امریکیوں کو احتجاجی مراسلہ بھجوایا اور حقائق اپنی قوم کے سامنے رکھے۔۔

آئین فوج کو سیاست سے مکمل طور پر الگ تھلگ رہنے کا پابند بناتا ہے۔۔ تاکہ تنقید سے محفوظ رہ کر اپنے پیشہ وارانہ فرائض سرانجام دے سکیں۔۔ حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ نے واضح طور پر بیان کیا ہے کہ جنرل یحییٰ خان پوری طرح سیاسی فیصلہ سازی کے مرتکب تھے۔۔🔥

اپنی قوم کیلئے میرا پیغام واضح تھا کہ ہم ایک خودمختار اور غیرت مند قوم ہیں جو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت ہرگز قبول نہیں کرتی۔۔

سائفر درحقیقت جنرل باجوہ کو بھیجا گیا تااکہ وہ اس کے مطابق میری منتخب جمہوری حکومت کو ختم کرسکے۔۔
جنرل باجوہ نے اپنی مدتِ ملازمت میں توسیع کیلئے چوروں سے ساز باز کی اور انہیں قوم پر مسلط کیا گیا۔۔

میں اپنے اکاؤنٹ پر کی جانے والی پوسٹس کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔۔ تاہم جیل میں ہونے کے باعث اپ لوڈنگ سے پہلے ویڈیو نہیں دیکھ سکا۔۔
آج مجھے ویڈیو دکھائی گئی جو حمودالرحمٰن کمیشن کے مندرجات پر مشتمل ہے۔۔
اگر اپ لوڈنگ سے قبل ویڈیو دکھائی جاتی تو پیغام کو مزید مؤثر کرنے کیلئے اس میں چند معمولی تبدیلیاں کرتا۔۔

"حمودالرحمان کمیشن رپورٹ ہماری قومی تاریخ کے المناک حادثے کے اسباب، وجوہات اور کرداروں کا احاطہ کرتی ہے۔۔
حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کے دو بنیادی اہداف تھے جن میں ایک سانحے کے ذمہ داروں کا تعین جبکہ دوسرا غلطیوں کی نشاندہی تھا۔۔

حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ کا حوالہ اس لئے دیا کہ ہم ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کریں۔۔
حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ کے پیرائے میں جنرل یحییٰ خان پر جتنی تنقید کی جاتی ہے وہ ان کی سیاسی فیصلہ سازی پر کی جاتی ہے۔۔
مشرقی پاکستان میں تعینات جنرل یعقوب اور ایڈمرل احسن نے یحیٰ خان کو مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن سے منع کیا جس پر انہیں مستعفیٰ ہونا پڑا۔۔

آئین فوج کو سیاست سے مکمل طور پر الگ تھلگ رہنے کا پابند بناتا ہے تاکہ تنقید سے محفوظ رہ کر اپنے پیشہ وارانہ فرائض سرانجام دے سکیں۔۔
حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ نے واضح طور پر بیان کیا ہے کہ جنرل یحییٰ خان پوری طرح سیاسی فیصلہ سازی کے مرتکب تھے۔۔

فوج کا سربراہ کسی انتخاب یا ریفرنڈم کے ذریعے مسند نہیں پاتا۔۔ چنانچہ اس کا خود کو اور ادارے کو سیاست اور سیاسی فیصلوں سے الگ رکھنا ہی فوج کے مفاد میں ہوتا ہے۔۔ اور آئین بھی اسی کا حکم دیتا ہے۔۔

فوج کا سربراہ جب سیاست میں ملوث ہوتا یا سیاسی فیصلے کرتا ہے۔۔ تو اپنے منصب سے الگ ہو کر سیاسی دائرے میں قدم رکھتا ہے۔۔

انتخابات کے بعد فیصلہ کن برتری اور عوامی مینڈیٹ کی حامل حکومت کو اقتدار منتقل نہ کرنا۔۔ اور ملک کو المناک حادثے کی بھینٹ چڑھنے دینا۔۔ جنرل یحیٰ خان کے فیصلے تھے۔۔
عوامی مینڈیٹ کا احترام نہ کرنے پر تب حالات تیزی سے داخلی انتشار اور بگاڑ کی جانب گئے۔۔ اور ملک دولخت ہوا۔۔

یحییٰ خان کے سیاسی فیصلوں میں حصہ لینے کے اسی شوق کی پاکستان اور افواجِ پاکستان نے بھاری قیمت ادا کی۔۔
سیاسی فیصلے کرنے اور پوری طرح سیاست میں ملوث ہونے کے بعد جنرل یحییٰ خان کیلئے فوج کے پیچھے چھپنا ہرگز ممکن نہ تھا۔۔
چنانچہ حمود الرحمٰن کمیشن اور تاریخ دونوں نے اس کے کردار پر اپنی تنقیدی رائے دی۔۔

ستر کے واقعات اور آج کے حالات کے مابین غیرمعمولی مماثلت ہر ذی شعور پاکستانی کیلئے تشویش کی وجہ ہے۔۔
ستّر میں ملک دولخت ہوا تو آج ہماری معیشت زمین بوس ہو چکی ہے۔۔ جبکہ اس میں بہتری کے امکانات کم سے کم تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔۔

ایس آئی ایف سی کے ذریعے معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی کوشش بری طرح ناکام ہوئی ہے۔۔
ملک کی سب سے بڑی اور عوامی مینڈیٹ کی حامل جماعت کو لاقانونیت سے کچلنے کی کوشش کرکے معیشت میں بہتری نہیں لائی جا سکتی۔۔

ایف آئی اے سراغ لگائے کہ اظہرمشوانی کے بھائیوں کو کس نے کس جرم میں اغوا کیا۔۔
سوشل میڈیا ورکرز ہمارے ہیروز اور قوم کا اثاثہ ہیں۔۔❤️
ان کی اور ان کے اہلِ خانہ کی ہراسگی کا سلسلہ بند ہونا چاہئیے۔۔❤️

ملکی معیشت کی بہتری کے امکانات تبھی پیدا ہوں گے جب عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے گا۔۔ اور فیصلہ سازی عوامی مینڈیٹ کے حامل جمہوری نمائندوں کو سونپی جائے گی۔۔

ایک اہم بات۔۔ پڑھیں۔۔ کمال مرشد۔۔ کمال۔۔🔥

ایف آئی اے کی ٹیم جب غد/اری اور بغاوت کے مقدمے میں تحقیقات کے لیے جب پہنچی۔۔ تو عمران خان نے کہا کہ۔۔
"تفتیش چھوڑو۔۔ پہلے مجھ ہر جھوٹے مقدمے پر معافی مانگو۔۔🔥
اظہر مشوانی کے بھائیوں کو کیوں اٹھایا ہے۔۔؟؟؟ ان کا جرم کیا ہے۔۔؟؟؟ کس قانون کے تحت یہ کارروائیاں کر رہے ہو۔۔؟؟؟

کاپی

قائم مقام گورنر پنجاب کے دستخط کے بعد پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والا ہتک عزت بل قانون بن گیا

 *پاکستان قائم مقام گورنر نے دستخط کردیے، پنجاب میں ہتک عزت بل قانون بن گیا*



قائم مقام گورنر پنجاب کے دستخط کے بعد پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والا ہتک عزت بل قانون بن گیا۔


گورنر ہاؤس پنجاب کے ذرائع کے مطابق قائم مقام گورنر ملک محمد احمد خان نے بل پر دستخط کردیے جس کے بعد پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والا ہتک عزت بل قانون بن چکا ہے۔


ہتک عزت بل پر قائم مقام گورنر کے دستخط کے بعد صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ گورنر کو منصوبے کے تحت چھٹی پر بھیج کر قائم مقام گورنر سے دستخط کرائے گئے، پیپلزپارٹی نے بھی صحافیوں کے ساتھ دھوکا کیا۔


ارشد انصاری نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی بظاہر صحافیوں کے ساتھ تھی اور اندر سے حکومت سے ملی ہوئی تھی۔ جلد ایکشن کمیٹی کا اجلاس بلاکر اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

افغانستان نے نیوزی لینڈ کو 84 رنز سےہرا دیا

 *▪️افغانستان نے نیوزی لینڈ کو 84 رنز سےہرا دیا*



ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا ایک اور اپ سیٹ ہوگیا، افغانستان کی ٹیم نے 160 رنز کے ہدف کا تعاقب کرنے والی تجربہ کار نیوزی لینڈ کی ٹیم کو 75 کے اسکور پر آل آؤٹ کرکے میچ 84 رنز سے جیت لیا۔


افغان بولرز نے کیویز بلے بازوں کو اننگز کی ابتداء سے ہی اپنی نپی تلی اور گھومتی ہوئی گیندوں کے جال میں پھنسائے رکھا۔


گلین فلپ اور میٹ ہینری کے علاوہ کوئی بھی کیوی بلے باز ڈبل فیگر میں داخل نہیں ہوسکا۔


اس سے قبل افغانستان نے رحمان اللّٰہ گرباز کے 80 رنز کی جارحانہ اننگز کی بدولت نیوزی لینڈ کو جیت کیلئے 160 رنز کا ہدف دیا تھا۔


ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے چودھویں میچ میں افغان اوپنرز نے نیوزی لینڈ کے خلاف  103 رنز کا شاندار آغاز فراہم کیا۔


ابراہیم زردان نے41 بالز پر 44 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ رحمان اللّٰہ گرباز 56 بالز پر 80 رنز بنا کر اننگز کے آخری اوور میں آؤٹ ہوئے۔


افغانستان کی پہلی وکٹ 14 ویں اوور میں 103 رنز پر گری جب ابراہیم زردان کو ہینری نے بولڈ کیا۔


دوسرے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی عظمت اللّٰہ عمر زئی تھے وہ 13 گیندوں پر 22 رنز بنا سکے، ان کے بعد آنے والے محمد نبی کھاتہ کھولے بغیر واپس پویلین چلے گئے، کپتان راشد خان 6 کے اسکور پر رن آؤٹ ہوئے۔


ساتویں نمبر پر بیٹنگ کیلئے آنے والے گلبدین نائب کوئی رن نہ بنا سکے جبکہ کریم جنت اور نجیب اللّٰہ زردان ایک، ایک رن بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔


یوں افغان ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹ کے نقصان پر 159 رنز اسکور کیے۔


نیوزی لینڈ کی جانب سے ٹرینٹ بولٹ اور میٹ ہینری نے 2 ، 2 وکٹیں لیں جبکہ فرگوسن ایک وکٹ حاصل کر سکے۔


پروویڈینس میں کھیلے گئے گروپ سی کے میچ میں نیوزی لینڈ نے افغانستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا۔


افغانستان نے اپنے پہلے میچ میں یوگنڈا کو 125 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دے کر کامیابی حاصل کی تھی۔


دوسری جانب ایونٹ میں نیوزی لینڈ کا آج پہلا میچ تھا۔

جے یو آئی سیکرٹری جنرل رکن قومی اسمبلی مولاناعبدالغفورحیدری کا شدید احتجاج اور اجلاس سے واک آو

 جے یو آئی سیکرٹری جنرل رکن قومی اسمبلی مولاناعبدالغفورحیدری کا شدید احتجاج اور اجلاس سے واک آوٹ




اسلام آباد (مائئ ٹی وی)کل بروز جمعہ قومی اسمبلی کا اجلاس زیر صدارت ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفی شاہ زیر صدارت چل رہا تھا اس موقع پر جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفورحیدری نے پوائنٹ آف آرڈر پر شدید احتجاج کیا اور سپیکر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اللہ کی عذاب کو دعوت دے رہے ہو یہاں جمعے کی نماز ہورہی ہے اور آپ اجلاس چلارہے ہو پندرہ منٹ کا وقفہ تک نہیں کیا . پاکستان میں سارے اسلامی اقدار پامال ہورہے ہیں مگر پارلیمنٹ جس سے توقع کی جاسکتی تھی کہ وہ قوم کا پارلیمنٹ ہیں

اس میں بیٹھنے والے پاکستانیوں کے دینی اقدار کی پاسداری کریں گے مگر آج جو دیکھنے میں ملا شاید ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا .

  فیض احمد فیض اپنے عہد کے عظیم شاعر    کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی  shehzadbhatti323@gmail.com آج ہم تذکرہ کریں گے ایک ایسے شاعر کا جنہیں غا...